خانہ کعبہ کچھ انجانے حقائق
![]() |
خانہ کعبہ کچھ انجانے حقائق |
اس دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جو خانہ کعبہ کی طرح مقدس اور مرکزی حیثیت رکھتی ہو۔ یہ مقام سعودی عرب میں وادیِ حجاز میں واقع ہے- روزانہ ہزاروں افراد چوبیس گھنٹے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں ۔ خانہ کعبہ کی مقدس تصاویر لاکھوں گھروں کی زینت ہیں اور کروڑوں مسلمان اس مقام کو اپنا قبلہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی جانب رخ کر کے پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں۔ خانہ کعبہ مکعب (Cube ) کی شکل میں تعمیر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے آئینہ میں ایک انتہائی خاص مقام کا حامل بھی ہے۔ آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو کچھ ایسے انجان حقائق کے بارے میں بتاتے ہیں جن کے بارے میں آپ نے شائد پہلے نہ پڑھا ہو۔
خانہ کعبہ کئی مرتبہ تعمیر ہو چکا ہے
1۔ خانہ کعبہ جس طرح آج ہمیں نظر آتا ہے یہ ویسا نہیں تھا۔ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ پیش آنے والی قدرتی آفات اور حادثات کی وجہ سے اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ بیشک ہم سب جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا ایک بڑا حصہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں نبوت ملنے سے قبل ممکن ہو چکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بڑی خون ریزی کو اپنی دور اندیشی سے روکا تھا۔ ایک بڑے کپڑے میں حجرِ اسود کو رکھ کر ہر قبیلے کے سردار سے اُٹھوایا تھا۔ اس کے بعد آنے والے وقت میں کئی مرتبہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہوتی رہی ہے۔ آخر میں خانہ کعبہ کی تفصیل سے آرائش 1996 میں ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں بہت سارے پتھروں کو ہٹا دیا گیا تھا اور بنیاد کو مضبوط کر کے نئی چھت ڈالی گئی تھی۔ یہ اب تک کی آخری بڑی تعمیر ہے اور اب خانہ کعبہ کی عمارت کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔
1۔ خانہ کعبہ جس طرح آج ہمیں نظر آتا ہے یہ ویسا نہیں تھا۔ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ پیش آنے والی قدرتی آفات اور حادثات کی وجہ سے اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ بیشک ہم سب جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا ایک بڑا حصہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں نبوت ملنے سے قبل ممکن ہو چکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بڑی خون ریزی کو اپنی دور اندیشی سے روکا تھا۔ ایک بڑے کپڑے میں حجرِ اسود کو رکھ کر ہر قبیلے کے سردار سے اُٹھوایا تھا۔ اس کے بعد آنے والے وقت میں کئی مرتبہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہوتی رہی ہے۔ آخر میں خانہ کعبہ کی تفصیل سے آرائش 1996 میں ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں بہت سارے پتھروں کو ہٹا دیا گیا تھا اور بنیاد کو مضبوط کر کے نئی چھت ڈالی گئی تھی۔ یہ اب تک کی آخری بڑی تعمیر ہے اور اب خانہ کعبہ کی عمارت کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔
خانہ کعبہ کی تاریخ پر میری پوسٹ "کعبہ تاریخ کے آئینے میں" پڑھیں۔
2۔ خانہ کعبہ کی کھڑکی
دوبارہ تعمیر کئے جانے سے قبل خانہ کعبہ کا ایک دروازہ اندر داخل ہونے کے لئے اور ایک باہر جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ ایک زمانہ تک خانہ کعبہ میں ایک کھڑکی ہوا کرتے تھی۔ خانہ کعبہ کی جو شکل آج موجود ہے اُس میں صرف دورازہ ہے کھڑکی نہیں۔
دوبارہ تعمیر کئے جانے سے قبل خانہ کعبہ کا ایک دروازہ اندر داخل ہونے کے لئے اور ایک باہر جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ ایک زمانہ تک خانہ کعبہ میں ایک کھڑکی ہوا کرتے تھی۔ خانہ کعبہ کی جو شکل آج موجود ہے اُس میں صرف دورازہ ہے کھڑکی نہیں۔
3۔ خانہ کعبہ کے مختلف رنگ
ہم لوگوں نے خانہ کعبہ کو ہمیشہ کالے رنگ کی کسواہ اور سونے کے دھاگوں میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے کہ ہم اس کو کسی اور رنگ میں تصور بھی نہیں کر سکتے، یہ روایت عباسد (جن کے گھر کا رنگ کالا تھا) کے دور سے چلی آ رہی ہے اور لیکن اس سے قبل خانہ کعبہ مختلف رنگ کے غلاف سے ڈھکا رہتا تھا ان رنگوں میں ہرا ، لال اور سفید رنگ شامل ہیں۔
ہم لوگوں نے خانہ کعبہ کو ہمیشہ کالے رنگ کی کسواہ اور سونے کے دھاگوں میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے کہ ہم اس کو کسی اور رنگ میں تصور بھی نہیں کر سکتے، یہ روایت عباسد (جن کے گھر کا رنگ کالا تھا) کے دور سے چلی آ رہی ہے اور لیکن اس سے قبل خانہ کعبہ مختلف رنگ کے غلاف سے ڈھکا رہتا تھا ان رنگوں میں ہرا ، لال اور سفید رنگ شامل ہیں۔
4۔ خانہ کی چابیاں ایک خاندان کی تحویل میں ہیں
فتح مکہ کے وقت، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی چابیاں دیں گئی تھیں لیکن بجائے اس کے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ چابیاں اپنے پاس رکھتے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ چابیاں بنی شائبہ خاندان کے عثمان بن طلحہٰ کو واپس کر دیں۔ اُس وقت سے آج تک وہ ان چابیوں کے روایتی رکھوال ہیں اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے نادر الفاظ کی روشنی میں یہ چابیاں ہمیشہ اُن کے پاس ہی محفوظ رہیں گی۔ ’’ اے بنی طلحہٰ، یہ چابیاں روزِ قیامت تک تیری تحویل میں رہیں گی، سوائے اس کے کہ زور زبردستی سے سے چھین لی جائیں۔‘‘
فتح مکہ کے وقت، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی چابیاں دیں گئی تھیں لیکن بجائے اس کے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ چابیاں اپنے پاس رکھتے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ چابیاں بنی شائبہ خاندان کے عثمان بن طلحہٰ کو واپس کر دیں۔ اُس وقت سے آج تک وہ ان چابیوں کے روایتی رکھوال ہیں اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے نادر الفاظ کی روشنی میں یہ چابیاں ہمیشہ اُن کے پاس ہی محفوظ رہیں گی۔ ’’ اے بنی طلحہٰ، یہ چابیاں روزِ قیامت تک تیری تحویل میں رہیں گی، سوائے اس کے کہ زور زبردستی سے سے چھین لی جائیں۔‘‘
5۔ پہلے خانہ کعبہ عوام کے لئے کُھلا رہتا تھا:
پہلے خانہ کعبہ ہفتہ میں دو مرتبہ عوام کے لئے کُھلا ہوتا تھا اور کوئی بھی خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کر سکتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں زائرین کی تعداد زیادہ ہونے اور دوسری وجوہات کی بنأ پر خانہ کعبہ کو اب سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے اور اس میں صرف اعلیٰ شخصیات اور خاص مہمان ہی صرف داخل ہوسکتے ہیں۔
پہلے خانہ کعبہ ہفتہ میں دو مرتبہ عوام کے لئے کُھلا ہوتا تھا اور کوئی بھی خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کر سکتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں زائرین کی تعداد زیادہ ہونے اور دوسری وجوہات کی بنأ پر خانہ کعبہ کو اب سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے اور اس میں صرف اعلیٰ شخصیات اور خاص مہمان ہی صرف داخل ہوسکتے ہیں۔
6۔ خانہ کعبہ میں تیراکی سے بھی طواف کیا جاتا تھا
خانہ کعبہ کے وادی کے نچلے حصہ میں ہونے کی وجہ سے دیگر مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ جب بارش ہوا کرتی تھی تو وادی میں سیلاب آ جاتا تھا- یہ مکہ جیسے شہر کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں تھی لیکن یہ بات دوسرے مسائل کی وجہ بنتی تھی- اس وقت یہاں سیلاب کی روک تھام اور نکاسی آب کا نظام موجود نہیں تھا۔ بارش کے آخری دنوں میں خانہ کعبہ پانی میں آدھا ڈوبا رہتا تھا۔ کیا اس وجہ سے طوافِ کعبہ رُکا؟ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں نے کعبہ کے ارد گرد تیراکی شروع کر دی تھی۔
خانہ کعبہ کے وادی کے نچلے حصہ میں ہونے کی وجہ سے دیگر مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ جب بارش ہوا کرتی تھی تو وادی میں سیلاب آ جاتا تھا- یہ مکہ جیسے شہر کے لئے کوئی انوکھی بات نہیں تھی لیکن یہ بات دوسرے مسائل کی وجہ بنتی تھی- اس وقت یہاں سیلاب کی روک تھام اور نکاسی آب کا نظام موجود نہیں تھا۔ بارش کے آخری دنوں میں خانہ کعبہ پانی میں آدھا ڈوبا رہتا تھا۔ کیا اس وجہ سے طوافِ کعبہ رُکا؟ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں نے کعبہ کے ارد گرد تیراکی شروع کر دی تھی۔
7۔ تزئین و آرائش کروانے والے حکمرانوں کے نام کی تختی:
کئی سال تک بہت لوگ اندازہ لگاتے رہے کہ خانہ کعبہ اندر سے کیسا نظر آتا ہے؟ دوسری اور تیسری معلومات کے ذریعے کے مطابق وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کی سعادت ملی اور ایک خوش نصیب وہ ہے جس کو تصویر بنانے کا موقع ملا اور لاکھوں لوگوں نے یہ تصویر انٹرنیٹ پر آن لائن دیکھی۔ خانہ کعبہ کا اندر کا حصہ سنگِ مرمر اور ہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ جس دور کے حکمران نے خانہ کعبہ کی دوبارہ آرائش کروائی اس نے خانہ کعبہ کے اندر اپنے نام کی تختی بھی لگوائی-
کئی سال تک بہت لوگ اندازہ لگاتے رہے کہ خانہ کعبہ اندر سے کیسا نظر آتا ہے؟ دوسری اور تیسری معلومات کے ذریعے کے مطابق وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کی سعادت ملی اور ایک خوش نصیب وہ ہے جس کو تصویر بنانے کا موقع ملا اور لاکھوں لوگوں نے یہ تصویر انٹرنیٹ پر آن لائن دیکھی۔ خانہ کعبہ کا اندر کا حصہ سنگِ مرمر اور ہرے رنگ کے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ جس دور کے حکمران نے خانہ کعبہ کی دوبارہ آرائش کروائی اس نے خانہ کعبہ کے اندر اپنے نام کی تختی بھی لگوائی-
8۔ خانہ کعبہ کی تعداد دو ہے:
خانہ کعبہ کے بالکل اوپر جنت میں خانہ کعبہ موجود ہے جس کا تذکرہ "بیت المعمور" والی پوسٹ میں ہوچکا ہے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے اور نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اس بات کی نشان دہی کی ہے۔ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسراہ والی معراج کا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا:’’جب مجھے بیت المعمور (اﷲ کا گھر) دکھایا گیا تو میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بیت المعمور ہے جہاں ستر ہزار فرشتے روزانہ اﷲ کی عبادت کرتے ہیں اور جب وہ یہاں سے جاتے ہیں تو واپس نہیں آتے (ہمیشہ نیا دستہ آتا ہے)۔
خانہ کعبہ کے بالکل اوپر جنت میں خانہ کعبہ موجود ہے جس کا تذکرہ "بیت المعمور" والی پوسٹ میں ہوچکا ہے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے اور نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اس بات کی نشان دہی کی ہے۔ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسراہ والی معراج کا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا:’’جب مجھے بیت المعمور (اﷲ کا گھر) دکھایا گیا تو میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بیت المعمور ہے جہاں ستر ہزار فرشتے روزانہ اﷲ کی عبادت کرتے ہیں اور جب وہ یہاں سے جاتے ہیں تو واپس نہیں آتے (ہمیشہ نیا دستہ آتا ہے)۔
9۔ حجرِ اسود:
کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے حجرِ اسود چاندی کے سانچے میں کیوں گھرا رہتا ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حجرِ اسود امایاد کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے پتھر لگنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا جب وہ مکہ پر قابض تھے جبکہ یہ پتھر عبد اﷲ بن زبیر کی ملکیت میں تھا۔
کچھ ذرائع کے مطابق حجرِ اسود بحرین سے تعلق رکھنے والے قرامتین کے ہاتھوں ٹوٹ گیا تھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حج ِ مبارک ایک توہین پرستی کا عمل ہے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں نے دس ہزار حجاج کو مار کر ان کی باقیات کو آبِ زم زم کے کنواں میں پھینک دیا تھا۔ یہ غیر انسانی عمل کافی نہیں تھا، یہ شیطان حجرِ اسود کو عرب کے مشرق میں لے گئے اور پھر عراق کے شہر کفا لے گئے جہاں اس کے ایوز تاوان وصول کیا جب ان کو مجبور کیا گیا تو ان لوگوں نے اس کو خلیفہ کو واپس کر دیا ، جب اسے واپس کیا گیا تو یہ ٹکڑوں میں تھا اور اس کو یکجان کرنے کا صرف ایک طریقہ سمجھ آیا تھا کہ اس کو چاندی کے سانچے میں رکھا جائے، کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس مقدس پتھر کے کچھ حصے آج بھی کہیں گم ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے حجرِ اسود چاندی کے سانچے میں کیوں گھرا رہتا ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حجرِ اسود امایاد کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے پتھر لگنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا جب وہ مکہ پر قابض تھے جبکہ یہ پتھر عبد اﷲ بن زبیر کی ملکیت میں تھا۔
کچھ ذرائع کے مطابق حجرِ اسود بحرین سے تعلق رکھنے والے قرامتین کے ہاتھوں ٹوٹ گیا تھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حج ِ مبارک ایک توہین پرستی کا عمل ہے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں نے دس ہزار حجاج کو مار کر ان کی باقیات کو آبِ زم زم کے کنواں میں پھینک دیا تھا۔ یہ غیر انسانی عمل کافی نہیں تھا، یہ شیطان حجرِ اسود کو عرب کے مشرق میں لے گئے اور پھر عراق کے شہر کفا لے گئے جہاں اس کے ایوز تاوان وصول کیا جب ان کو مجبور کیا گیا تو ان لوگوں نے اس کو خلیفہ کو واپس کر دیا ، جب اسے واپس کیا گیا تو یہ ٹکڑوں میں تھا اور اس کو یکجان کرنے کا صرف ایک طریقہ سمجھ آیا تھا کہ اس کو چاندی کے سانچے میں رکھا جائے، کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس مقدس پتھر کے کچھ حصے آج بھی کہیں گم ہیں۔
10۔ خانہ کعبہ مکعب کی شکل کا نہیں:
مکعب کی شکل سے مشہور خانہ کعبہ دراصل مستطیل کی شکل کا ہے۔خانہ کعبہ کبھی بھی مکعب کی شکل کا نہیں تھا اس کی اصل زاوئیے کے مطابق ایک سائڈآدھی گول تھی جس کو حجر اسماوعیل کہا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے جب خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی تب قریش نے اس بات کی حامی بھری تھی کہ وہ حلال کمائی سے ہی اس کی تعمیر مکمل کریں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوئے، لوٹ مار، جسم فروشی اور سود جیسے حرام کاموں سے کمایا ہوا پیسہ استعمال نہیں ہوگا قریش اتنے امیر تجارتی شہر میں ہونے کے باوجود اتنی رقم جمع کرنے میں ناکام ہو چکے تھے جو خانہ کعبہ کی تعمیر اُس کے اصل سائز اور رقبہ کے حساب سے کر سکیں۔ انہوں نے خانہ کعبہ کی چھوٹی عمارت تعمیر کی اور اس کی دیواریں مٹی کی اینٹوں سے بنائی (جس کو حجرِ اسماعیل کہا جاتا ہے حالانکہ کے اس کا حضرت اسماعیل سے کوئی تعلق نہیں) جو کہ خانہ کعبہ کے حقیقی قطر کی جانب اشارہ کرتی تھیں۔ خلیفہ عبد اﷲ بن زبیر کے دورِ حکومت کے چند سال کے مختصر وقفہ میں خانہ کعبہ اپنی اُسی شکل میں موجود تھا جس میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے متعین کروایا تھا۔
مکعب کی شکل سے مشہور خانہ کعبہ دراصل مستطیل کی شکل کا ہے۔خانہ کعبہ کبھی بھی مکعب کی شکل کا نہیں تھا اس کی اصل زاوئیے کے مطابق ایک سائڈآدھی گول تھی جس کو حجر اسماوعیل کہا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے جب خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی تب قریش نے اس بات کی حامی بھری تھی کہ وہ حلال کمائی سے ہی اس کی تعمیر مکمل کریں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوئے، لوٹ مار، جسم فروشی اور سود جیسے حرام کاموں سے کمایا ہوا پیسہ استعمال نہیں ہوگا قریش اتنے امیر تجارتی شہر میں ہونے کے باوجود اتنی رقم جمع کرنے میں ناکام ہو چکے تھے جو خانہ کعبہ کی تعمیر اُس کے اصل سائز اور رقبہ کے حساب سے کر سکیں۔ انہوں نے خانہ کعبہ کی چھوٹی عمارت تعمیر کی اور اس کی دیواریں مٹی کی اینٹوں سے بنائی (جس کو حجرِ اسماعیل کہا جاتا ہے حالانکہ کے اس کا حضرت اسماعیل سے کوئی تعلق نہیں) جو کہ خانہ کعبہ کے حقیقی قطر کی جانب اشارہ کرتی تھیں۔ خلیفہ عبد اﷲ بن زبیر کے دورِ حکومت کے چند سال کے مختصر وقفہ میں خانہ کعبہ اپنی اُسی شکل میں موجود تھا جس میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے متعین کروایا تھا۔


0 Comments